جنوبی ایشیاء میں پہلی بار جدید کیبن لیس ریموٹ کنٹرول کرینوں کی ہچیسن پورٹس پاکستان پر آمد

کراچی، 6مارچ، 2019۔ ہچیسن پورٹس پاکستان نے کراچی میں آج تین نئی ریموٹ کنٹرول کرینیں (QCs) حاصل کرلی ہیں جس کے بعد ٹرمینل کے دوسرے مرحلے کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔ اس تاریخی پیش رفت کی تکمیل کے بعد پاکستان جنوبی ایشیاء میں پہلا ملک بن جائے گا جس کے پاس سیمی آٹو میٹڈ اور کیبن لیس کرینیں نصب ہوں گی۔

یہ پاکستان کی پہلی اور گہرے پانی کی واحد پورٹ ہے جسے چین کی شنگھائی ژنھوا پورٹ مشینری کمپنی (ZPMC) سے معاہدے کے تحت ان جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرینوں کی پہلی کھیپ موصول ہوگئی ہے۔ اس معاہدے کے تحت 8عدد کیبن کے بغیر نئی ریموٹ کنٹرول کرینوں (QCs)کی خریداری کے ساتھ ٹرمینل کی جانب سے 24عدد ریموٹ کنٹرول ربر ٹائر گینٹری کرینیں (RTGCs) بھی حاصل کی جائیں گی۔ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی کرینیں ہوں گی۔ ہچیسن پورٹس پاکستان ملک میں پہلا کنٹینر ٹرمینل ہے جس نے ریموٹ کنٹرول، سیمی آٹو میٹک اور ڈرائیور لیس کیب ٹیکنالوجی سے آراستہ QC کرینیں نصب کیں۔ نئی ریموٹ کنٹرول QC کرینیں محفوظ اور روانی سے آپریشنز کو یقینی بنانے کے لئے بھاری سامان اٹھانے والے اسپریڈر سے 65 ٹن تک وزنی کنٹینر اٹھاسکتی ہے۔

ہچیسن پورٹس پاکستان کے ہیڈ آف بزنس یونٹ اور جنرل منیجر کیپٹن سید راشد جمیل نے کہا ”یہ ہچیسن پورٹس پاکستان کے لئے یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ ان تین نئی کرینوں کی آمد کے ساتھ پاکستان کی تجارت اور معیشت کی ترقی کے ہمارے عزم کی توثیق ہوئی ہے اور ہم مستقبل میں بھی ایسا ہی کریں گے۔ ان نئی کرینوں کے اضافے کے بعد ہمارے آپریشنز میں تیزی اور کارگو ہینڈلنگ میں خاطر خواہ اضافہ کے ساتھ مجموعی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔ ہم اپنے آپریشنز کی رفتار میں مزید تیزی لانے کے قابل ہوجائیں گے جس سے ہمارفین کو بلواسطہ اور بلاوسطہ بہت فائدہ پہنچے گا۔

نئی کرینوں کی تنصیب کا کام اگلے چار روز میں مکمل ہوجائے گا جس کے بعد ٹرمینل پر مجموعی طور پر 11 عدد ریموٹ کنٹرول QCs کرینیں حاصل ہوجائیں گی۔ اس کے نتیجے میں مجموعی آپریشنز میں نمایاں اضافہ ہوجائے گا۔ باقی 5 کرینیں پورٹ پر سال 2021 تک حاصل ہوجائیں گی۔ مزید یہ کہ رواں سال اکتوبر تک 11 عدد ریموٹ کنٹرول ربر ٹائر گینٹری کرینیں (RTGCs) جبکہ سال 2021 تک باقی مانندہ 13 کرینیں حاصل ہوجائیں گی۔

ہچیسن پورٹس پاکستان کا تعارف

ہچیسن پورٹس پاکستان کیماڑی گروئن بیسن میں سمندر اور دریا کے سنگم پر واقع ہے اور کراچی میں داخل ہونے والے جہازوں کو انتہائی باسہولت انداز سے رسائی فراہم کررہا ہے۔ یہ نئی سہولت گاہ بحیرہ عرب میں شپنگ لائنز سے قریب ترین پاکستانی پورٹ ہے۔ یہ اہم مقام فیئروے بوئے سے قریب ترین سمندری راستے کی سہولت فراہم کرتا ہے جو صارفین کو وقت، لاگت، تاخیر میں کمی کے خدشات اور کاربن کے کم استعمال کی سہولیات مہیا کرتا ہے۔

ہچیسن پورٹس پاکستان بنیادی طور پر ہچیسن پورٹس کا رکن ہے۔ یہ سی کے ہچیسن ہولڈنگز لمیٹڈ (CK Hutchison) کی پورٹ اور متعلقہ خدمات کا ڈیویژن ہے۔ ہچیسن پورٹس دنیا کا صف اول کا پورٹ انویسٹر، ڈیولپر اور آپریٹر ہے جو ایشیاء، مشرق وسطیٰ، افریقہ، یورپ، امریکاز اور آسٹریلیشیا کے 26 ممالک پر پھیلی ہوئی 52 پورٹس میں اپنے پورٹ آپریشنز کا وسیع نیٹ ورک رکھتا ہے۔ گزشتہ سالوں کے دوران ہچیسن پورٹس کے لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹیشن سے متعلقہ کاموں بشمول کروز شپ ٹرمینلز، ایئرپورٹ آپریشنز، ڈسٹری بیوشن سینٹرز، ریل سروسز اور شپ ریپئر کی سہولیات کے ساتھ وسعت آگئی ہے۔